Press Statements

Indian Muslim Mushawarat condemns BJP leaders' hate-mongering

Original_aimmm-logo-white

New Delhi, 15 Sept. 2014: The All India Muslim Majlis-e Mushawarat, the umbrella body of Indian Muslim organisations, condemned the continuous hate-mongering indulged in by BJP leaders.

AIMMM President Dr Zafarul-Islam Khan said here in a statement that after the disgraceful flop of their fake "Love Jihad" plank, BJP leaders are now raking up their old false claims about madrasas teaching terrorism and that meat export income is being used to finance terror. The first claim has been made by a BJP MP known for his hate utterances and activities while the other is made by a BJP minister whose preference for stray dogs over poor humans is well-known.

Both these claims, Dr Khan said, are false and libellous. He added that under the previous NDA government, BJP leaders made such false claims against madrasas but utterly failed to pinpoint a single madrasa and close it down as a result.

Now Sangh's communal elements are feeling emboldened again to raise this issue only to divide Indians on religious lines and to polarise society for their narrow political gains.

Dr Khan reiterated his earlier offer in such a case that he is ready to take at his cost the said BJP leader to any madrasa in any part of India where the said leader can check the textbooks being taught to madrasa students.

Dr Khan further said that the BJP minister's claim about the use of meat export income to finance terrorism only speaks volumes about her government's utter inefficiency since till date no such case has been filed in the length and breadth of the country.

Dr Khan added that the meat export is a monopoly of some big business houses since only owners of modern slaughter houses, which cost hundreds of crores each, can export meat and the owners of these slaughter-houses include Hindus, Sikhs and Jains and not only Muslims contrary to the intended message.

Dr Khan said rabid elements in the Sangh Parivar feel emboldened by the advent of the Modi government and they have started low-intensity communal violence in all parts of the country while the Union government looks the other way.

Dr Khan said that this low-intensity violence cannot go hand-in-hand with the development plank of Modi government. Modi has to choose between hate and development as the twain cannot coexist.

مشاورت نے بی جے پی لیڈروں کی نفرت کی مہم کی مذمت کی


نئی دلی، ۱۴ستمبر ۲۰۱۴: ہندوستانی مسلم تنظیموں کی وفاق آل انڈیا مسلممجلس مشاورت نے آج یہاں بی جے پی لیڈروں کی نفرت کی مہم کی مذمت کی۔ صدرمشاورت ڈاکٹر ظفرالاسلام خان نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ ’’لوجہاد‘‘ پروپیگنڈے کی ذلت آمیز ناکامی کے بعد اب بی جے پی لیڈروں نے مدرسوں اورگوشت ایکسپورٹ بزنس کے خلاف مہم چھیڑ دی ہے۔ ان لیڈروں نے یہ دعوی کیا ہےکہ مدرسے دہشت گردی پھیلاتے ہیں اور گوشت ایکسپورٹ بزنس کی آمدنی کو دہشتگردی کے لئے استعمال کیا جاتاہے۔ پہلا دعوی ایک بدنام زمانہ بی جے پی لیڈرنے کیا ہے جو نفرت آمیز بیانات اور افعال کے لئے مشہور ہے جبکہ دوسرا بیانایک خاتون وزیر نے دیا ہے جن کے نزدیک آوارہ کتوں کی بہبود کو غریب انسانوںپر فوقیت حاصل ہے۔


ڈاکٹر خان نے کہا کہ یہ دونوں دعوے جھوٹے اور قانونی طور پر مواخذہ کے لائقہیں۔ ڈاکٹر خان نے کہا کہ پچھلی این ڈی اے حکومت کے دوران بھی بی جے پیلیڈران اس قسم کا پروپیگنڈہ مدارس کے خلاف کرتے تھے لیکن ان کی حکومت کسیایک مدرسے کی بھی نشاندہی کرکے اسے بند کرنے میں ناکام رہی۔ اور اب مودیسرکار کے آنے کے بعد سنگھ پریوار کے فرقہ پرست عناصر دوبارہ اس جھوٹ کوپھیلاکر سماج کو توڑنا چاہتے ہیں تاکہ الیکشن میں اس کا سیاسی فائدہ حاصلکرسکیں۔


ڈاکٹر نے اس سلسلے میں اپنا وعدہ دہرایا کہ وہ مذکورہ لیڈر کو اپنے ذاتیخرچے پر ہندوستان میں ان کی پسند کے کسی  بھی مدرسے میں لے جانے کو تیارہیں تاکہوہ اپنی آنکھ سے دیکھ سکے کہ وہاں کیا پڑھائی ہوتی ہے۔ ڈاکٹر خان نے مزیدکہا کہ بی جے پی خاتون وزیر کا دعوی کہ گوشت ایکسپورٹ کی آمدنی دہشت گردیکو فائننس کرنے کے لئے استعمال ہوتی ہے سراسر جھوٹ ہے اور خود اس کی حکومتکے نکمے پن کو ظاہر کرتی ہے کیونکہ ابتک ملک کے کسی حصے سے ایسی خبر نہیںآئی ہے کہ اس قسم کا کوئی بھی مقدمہ کسی بھی گوشت ایکسپورٹر کے خلاف حکومتنے دائر کیا ہے۔ ڈاکٹر خان نے مزید کہا کہ کہ گوشت ایکسپورٹ بزنس پر صرفچندبہت ہی مالدار بزنس گھرانوں کا احتکار ( منوپلی )ہے کیونکہ گوشتایکسپورٹ کے لئے مطلوبہ جدید مذبح خانہ کئی سو کروڑ روپے میں تیار ہوتا ہے ۔مزید برآں بی جے پی وزیر کے اشارے کے برخلاف گوشت ایکسپورٹ بزنس میں صرفمسلمان ہی نہیں ہیں بلکہ اس میں ہندو، سکھ اور جین بزنس گھرانے بھی  شامل ہیں۔


ڈاکٹر خان نے کہا کہ سنگھ پریوار کے نفرت سے پاگل عناصر نے مودی حکومت کےآنے کے بعد ایک ہلکے قسم کا فرقہ وارانہ تشدد کا ماحول پورے ملک میں رچارکھا ہے جب کہ گورنمنٹ اس کو نظر انداز کر رہی ہے۔ ڈاکٹر خان نے کہا کہفرقہ وارانہ تشدد کا یہ ماحول مودی کے ڈویلپمنٹ اور سب کی ترقی کے نعرے سےمیل نہیں کھاتا ہے۔ آگ اور پانی کی طرح یہ دونوں ساتھ نہیں چل سکتے ہیں ۔
(ختم)

[end]

 

Issued at New Delhi on 15 September 2014 by
 -------------------------------------------------------
ALL INDIA MUSLIM MAJLIS-E-MUSHAWARAT
[Umbrella body of the Indian Muslim organisations]
D-250, Abul Fazal Enclave, Jamia Nagar, New Delhi-110025  India
Tel.: 011-26946780  Fax: 011-26947346

Email: mushawarat@mushawarat.com   Web: www.mushawarat.com  Photos: flickr/images

We hope you liked this report/article. The Milli Gazette is a free and independent readers-supported media organisation. To support it, please contribute generously. Click here or email us at sales@milligazette.com

blog comments powered by Disqus