International

​88th Death Anniversary of "Father of Modern Lahore" Sir Ganga Ram Observed

Original_sir-ganga-ram

Islamabad / Karachi: July 12, 2015: Patron-in-chief of Pakistan Hindu Council and MNA Dr Ramesh Kumar Vankwani has proposed the Punjab Government for the inclusion of introductory lessons for awareness about the "Father of Modern Lahore", Sir Ganga Ram, in the educational curriculum.

Paying rich tribute to Sir Ganga Ram on the occasion of his his 88th death anniversary, Dr. Ramesh Vankwani was of the view that preserving the Samadhi (Shrine) of Sir Ganga Ram, located at Ravi Road, as National Heritage would be most suitable step to acknowledge the great legendary.

Rai Bahadur Sir Ganga Ram is, no doubt, the father of modern Lahore, Dr Ramesh said, regretting that today no one really spare some time to acknowledge his great contributions to serve the people, regardless of race, religion and caste. In addition, it is really painful that the Samadhi had been neglected and left on the mercy of hate-mongers, Dr Ramesh said.

Dr Ramesh told that Sir Malcolm Hailey, the Governor of Punjab under the British rule, had also lauded the great Hindu philanthropist by saying that "He won like a hero and gave like a Saint". He, in the context of Quad-e-Azam's 11 August Speech, urged for the protection of the rights of minorities and due acknowledgement of their contributions.

Sir Ganga Ram was an executive engineer by profession under the British rule and a man behind the construction of various city buildings like Lahore Museum, Aitchison College, Mayo School of Arts, High Court, GPO, Government College's chemistry block and Mayo Hospital's Albert Victor wing. Following the demolition of Babri Masjid in 1992, hundreds of people had attacked to damage the Samadhi of Sir Ganga Ram, which is now in serious need of repair.

نئی نسل کوسرگنگارام جیسی انسان دوست شخصیت کی خدمات سے آگاہ کیا جائے، پاکستان ہندوکونسل کے سرپرست اعلیٰ ڈاکٹر رمیش کمار ونکوانی کا سرگنگارام کی 88ویں برسی کے موقع پر تعزیتی پیغام،جدید لاہور شہر کے بانی کی سمادھی کی حفاظت قومی یادگار قرار دینے کی تجویز


اسلام آباد/کراچی (12جولائی2015ء): پاکستان ہندوکونسل کے سرپرست اعلیٰ اور ممبرقومی اسمبلی ڈاکٹر رمیش کمار ونکوانی نے جدید لاہور شہر کے بانی سرگنگارام کی88ویں برسی کے موقع پرنئی نسل کو آنجہانی کی خدمات و افکار سے آگاہ کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے پنجاب حکومت کو انکی خدمات کے بارے میں اسباق تعلیمی نصاب میں شامل اور سمادھی کی حفاظت یقینی بناکر قومی یادگار قرار دینے کی تجویز پیش کی ہے، اپنے تعزیتی پیغام میں ڈاکٹر رمیش ونکوانی کا کہنا تھا کہ انجینئر رائے بہادرسرگنگارام کی انسان دوست شخصیت، عزم و حوصلے کی بدولت جدید لاہور کا قیام عمل میں آیا، لاہور کا چپہ چپہ سرگنگارام کی خدمات کا گواہ ہے لیکن افسوس کا مقام ہے کہ آج ہم اپنے محسنوں کو بھلاکر نہ صرف تاریخَ پاکستان سے ماضی کی نامور ہندو شخصیات کی خدمات کو یکسر نظرانداز کررہے ہیں بلکہ انکی آخری قیام گاہ سمادھی کو بھی نفرتوں کا پرچار کرنے والوں کے شر سے محفوظ رکھنے میں ناکام رہے ہیں۔ڈاکٹر رمیش کے بقول سرگنگارام ایک دولتمند شخصیت تھے لیکن انہوں نے بھگوان سے پچاس فیصد کی پارٹنرشپ کرکے دین دھرم سے بالاتر ہوکر خدمتِ انسانیت کیلئے اپنی دولت وقف کردی ، وہ ملک سے غربت، بیماری،تعلیم کے فقدان اور بے روزگاری کے خلاف ساری عمر نبرد آزما رہے، وہ ایک ایسے فلاحی معاشرے کے قیام کیلئے عمربھر کوشاں رہے جس میں تمام انسانوں کو برابری کی سطع پر یکساں حقوق میسر ہوں، سرگنگارام ہسپتال، جی پی او، لاہور عجائب گھر، ایچیسن کالج،گورنمنٹ کالج لاہور کا کیمسٹری ڈیپارٹمنٹ، میواسپتال کا البرٹ وکٹرونگ،میو سکول آف آرٹس (موجودہ این سی اے) ، ماڈل ٹاؤن اور گلبرگ جیسی اس دور کی جدید عمارات کی نئی کالونیوں کے نقشے آج بھی سرگنگارام کی مہارت اور قابلیت کا اعتراف کرتے ہیں۔ انگریز سرکار کے گورنر پنجاب سر میلکم میلے نے سرگنگارام کی سماجی شخصیت کو ان الفاظ میں خراجِ تحسین پیش کیا تھا کہ وہ ایک سورما کی مانند جیتتا ہے اور ایک صوفی کی مانند دان کرتا ہے، سانحہ بابری مسجد کے ردعمل میں 1992 ؁ء میں انسان دوست عظیم شخصیت سرگنگارام کی راوی روڈ پر بڈھے راوی کے کنارے واقع عظیم الشان سمادھی کو شدیدتوڑ پھوڑ کا نشانہ بنایا گیا تھا۔ڈاکٹر رمیش کمار ونکوانی نے کہا کہ آج ضرورت اس امر کی ہے کہ بانی پاکستان قائداعظم کی گیارہ اگست کی تقریر کے تناظر میں تمام اقلیتوں کو انکے جائز حقوق کی فراہمی اور ماضی کی خدمات کا اعتراف یقینی بنایا جائے۔
 

We hope you liked this report/article. The Milli Gazette is a free and independent readers-supported media organisation. To support it, please contribute generously. Click here or email us at sales@milligazette.com

blog comments powered by Disqus