Analysis

Death knocking on a closed door

By Musharraf Alam Zauqi

We are slowly moving to the glacier of death. Imagine if a few of us suddenly disappear. Then slowly incidents of disappearance increase. Imagine one day our population decreases from 1300 million to 1000 million. Then imagine someone perceives that this population is like stinking, lifeless corpes covered by huge slabs of ice.

Then imagine this decreasing population praying, like a corpse, for its death - just like a frightened Heathcliff in Wuthering Heights calling his beloved’s soul. Imagine, these are you and me and all of us thrown into the Nazi gas chambers – to die.

There is a scene in Aleksandr Solzhenitsyn's The Gulag Archipelago where a man is walking with his wife. Suddenly, a stranger calls him and says he just wants him for two minutes. That man walking with his wife does not know that these “two minutes” may extend to 20 years or that after these “two minutes” he will be packed off to the planet of death, far away from his world because death sentence has already been pronounced against him for speaking against the government.

When Ziaul Haq ruled Pakistan, story-writer Naeem Arwi in his story, “Masaafaton kee hijrat” (migration of distances), had expressed such fear and anguish. Speaking truth was a taboo, rather speech itself was forbidden.

Fear ruled India during the Emergency clamped by Indira Gandhi but there were protesters and the press played a big role in these protests.

A leader of Rihai Manch in Lucknow has been severely thrashed by police for protesting against the Bhopal encounter. And now Information & Broadcasting Ministry of Venkaiah Naidu has clamped a one-day ban on NDTV. The reason: The government thinks NDTV’s reporting of Pathankot was dangerous. In other words, those who stand with the government are guiltless.

If you speak you are a criminal.

If you side with the Muslims, you are a criminal.

If you raise your voice for freedom of speech, you are a criminal.

If you are not with Modi, you are both a sinner and criminal.

During Indira’s Emergency, the press continued to protest. In today’s undeclared Emergency, there is no media worth its name except NDTV. Media speaks the Modi language. This is the time to stand with NDTV. Let such a fire ignite on social media that whole India wakes up and listens.

Media Murder

Emergency is already here. We are disappearing slowly like Najeeb. We may be called tomorrow to a barren mountain and killed there. Let TV channels and journalists, who speak truth, court government’s anger. The mouth of the glacier of death is open in front of us. If we do not wake up now, there will be no tomorrow to wake upto.

Death is nearer than any time in the past.

Histories of cruel and wicked rulers from Hitler to Idi Amin are known to us. These tyrants trampled upon all values and ethics in order to build their empires of fear. They turned everything lawful into unlawful.

Today, we have lost one Najeeb. Tomorrow, thousands of Najeebs will disappear. Today, a few prisoners are being murdered, tomorrow thousands will face the same fate and none will speak. Those who speak against injustice and barbarism will have retreated behind their closed doors fearing some untoward incident which may extinguish their lives.

Today a channel has been gagged in the name of freedom of speech. Tomorrow, such channels will be closed down for ever. Will anyone dare speak the truth then, while outfits like RSS will have a field day to purvey poison and burn whatever they do not like.

It is time we stood up in our thousands, lakhs and crores…. Else, another frightening page will be added to history. We will start decreasing. Our disappearances will become serial. We will lose voice. Our story will be lost.

To sum up: Rajkamal Jha, Editor of the Indian Express, said the other day after the Prime Miniser’s speech in the Ramnath Goenka Awards functions: selfie journalists cannot be the standard of journalism. Jha said that once when a journalist was praised by a minister, Goenka lost no time to sack him. A glimpse of good journaslism was seen in the same function when Akshay Mukul of the Times of India refused to accept an award from the hands of Mr. Modi saying that the mere imagination of him taking an award from Modi makes his life hell.

Dilip Arun of Sitamarhi, Bihar, has sent a letter to the President of India asking him which is the last window in the country where a dying man can beg for his life? Life will be worse than death if the window of freedom of speech is closed.

(Translated from Urdu by Zafarul-Islam Khan. The author is a well-known Urdu littérateur and novelist)

 

The original Urdu article:

بند دروازے پر موت کی آہٹ 
--- مشرّف عالم ذوقی

ہم آہستہ آہستہ موت کے گلیشئر کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ فرض کیجئے: ہم میں سے کچھ لوگ اچانک غائب ہوجائیں۔ پھر آہستہ آہستہ اچانک گمشدگی کے واقعات میں اضافہ ہونے لگے ...۔ فرض کیجئے، ایک دن محسوس ہو کہ تھوڑا تھوڑا کرکے ہم باون کروڑ آبادی میں سے پندرہ کروڑ رہ گئے ہیں۔
اور فرض کیجئے کہ پھر اس بات کا بھی احساس ہو کہ یہ آبادی برف کی بڑی بڑی سلیوں کے درمیان بدبودار لاش کی طرح ہے جس کے اندر زندگی کی کوئی رمق، کوئی نشانی باقی نہیں۔
اور فرض کیجئے، ایک ایسا منظر سامنے ہو کہ یہ کم ہوتی آبادی کسی لاش کی طرح، ایک جگہ جمع ہو کر ہاتھ اٹھا کر اپنے لیے موت کی دعا مانگ رہی ہو۔ ٹھیک اسی طرح جیسے ودرنگ ہائٹس میں، ہیٹھ کلف کھڑکی کے پاس ، سہما ہوا اپنی محبوبہ کی روح کو آواز دیتا ہے۔فرض کیجئے ..یہ آپ اور ہم سب ہوں اور ہمیں نازیوں کے گیس چمبر میں ڈال دیا گیا ہو ..مرنے کے لئے ...
الگزنڈر سولسنٹین کا ناول، گلاگ آرکپلا گو کا ایک منظر ہے۔ ایک شخص اپنی بیوی کے ساتھ جارہا ہو تا ہے۔ ایک دوسرا شخص آواز دیتا ہے۔ اور اس سے کہتا ہے کہ اسے بس دو منٹ چاہیے۔ بیوی کے ساتھ جو شخص ہے، اسے نہیں معلوم کہ یہ دومنٹ،  20برس بھی ہوسکتے ہیں اور یہ بھی کہ دو منٹ کے بعد اسے اس دنیا سے دور کسی موت کے سیارے میں بھیج دیا جائے--- کیونکہ اسے حکومت کے خلاف بولنے کے جرم میں سزا سنائی جاچکی ہے۔ 
پاکستان میں جب ضیاءالحق کی حکومت تھی تو پاکستانی افسانہ نگار نعیم آروی نے اپنے افسانہ" ہجرتوں کی مسافت" میں کچھ اسی طرح کی وحشت اور کرب کا اظہار کیا تھا۔ سچ پر پابندی تھی۔ بولنا منع تھا۔
ہندستان میں اندرا گاندھی نے١میں ایمرجنسی لگائی تو خوف کا ماحول تھا لیکن احتجاج کرنے والے بھی تھے اور احتجاج کرنے والوں میں میڈیا کا بڑا رول تھا۔ 
بھوپال انکاﺅنٹر پر لکھنو میں رہائی منچ سے وابستہ ایک ذمہ دار رکن کو احتجاج کرنے پر پولیس بے دردی سے پیٹ ڈالتی ہے۔ اور اب وینکیا نائیڈو کی انفارمیشن اینڈ براڈ کاسٹنگ منسٹری ان ڈی ٹی وی پر ۹نومبر، پابندی لگانے کا اعلان کرتی ہے۔ وجہہ: پٹھان کوٹ حملے کو لے کر ان ڈی ٹی وی کی رپورٹنگ کو حکومت نے خطرناک تصور کیا۔ یعنی جوحکومت کے ساتھ نہیں وہ مجرم ہے ۔
آپ آواز اٹھاتے ہیں تو آپ آپ مجرم ہیں۔
آپ مسلمانوں کا ساتھ دیتے ہیں تو آپ مجرم ہیں۔
آپ اظہار رائے کی آزادی کی بات کرتے ہیں تو آپ مجرم ہیں۔
آپ مودی کے ساتھ نہیں تو آپ گنہگار اور مجرم دونوں ہیں۔
اندرا گاندھی کی ایمرجنسی میں میڈیا کا احتجاج جاری تھا۔
مودی کے غیر اعلانیہ ایمرجنسی میں ان ڈی ٹی وی کو چھوڑ دیا جائے تو میڈیا ہے ہی نہیں- میڈیا مودی کی زبان بولتا ہے۔ یہ وقت این ڈی ٹی وی کے ساتھ کھڑے ہونے کا ہے۔ ہم سوشل ویب سائٹس پر اپنی تحریروں سے ایسی آگ لگا دیں کہ پورا ہندوستان جاگ جائے۔
ایمرجنسی لگ چکی ہے ۔ ہم نجیب کی طرح آہستہ آہستہ غائب ہورہے ہیں۔ کل کسی ننگی پہاڑی پر بلا کر ہمیں بھی ہلاک کیا سکتا ہے۔ سچ بولنے والے ٹی وی چینل اور صحافیوں کو حکومت کی ناراضگی جھیلنی ہوگی۔ 
سامنے موت کا گلیشئر کھلا ہے۔ابھی نہیں جاگے تو پھر کبھی نہیں جاگیں گے۔
موت پہلے سے کہیں زیادہ قریب آچکی ہے.

ہٹلر سے ایدی امین تک ظالم و جابر حکمرانوں کی تفصیلات سامنے ہیں ..یہ وہ لوگ تھے جنہوں نے خوف کی حکومت قایم کرنے کے لئے ہر اصول ہر اخلاقیات کو بالائے طاق رکھدیا ..ہر ناجایز کو جایز بنا دیا ..آج ہم میں سے ایک نجیب گم ہو رہا ہے ...کل ہزاروں گم ہونگے ..آج ٨قیدی مارے جا رہے ہیں ..کل ہزاروں پر آفت آئے گی اور کوئی آواز نہیں بلند ہوگی ...ظلم کی طاقت اور بربریت کی چھاؤں میں آواز بلند کرنے والے بھی خوف زدہ اپنے گھروں میں بند ہوں گے کہ کوئی نا گہانی حادثہ انکے ساتھ نہ پیش آ جائے ...آج ایک چینل پر اظہار رائے کی آزادی کے نام پر بندش لگایی جا رہی ہے .کل ایسے چینل حکومت کے عتاب کا شکار ہو کر بند کر دیے جاینگے .کیا اسکے بعد کوئی سچ بولنے کا حوصلہ کریگا ؟ جبکہ ملک میں آتش بیانی اور زہر پھیلانے والی آر ایس ایس جیسی جماعتوں پر کوئی پابندی نہیں --
وقت ہے کہ ہم ہزاروں کی تعداد میں اٹھ کھڑے ہوں ..لاکھوں ..کروڑوں کی تعداد میں اٹھ کھڑے ہوں ..
ورنہ ..... تاریخ کے خوفزدہ کرنے والے کارناموں میں ایک اور اضافہ ہو جاےگا ..ہم کم ہونے لگیں گے ..ہماری گمشدگی بڑھنے لگےگی ...ہم بے صوت و صدا ہونگے ...ہماری داستان تک بھی نہ ہوگی داستانوں میں ...
آخر میں دو باتیں ...رام ناتھ گوئنکا ایوارڈ فنکشن میں انڈین ایکسپریس کے ایڈیٹر راجکمل جھا نے نے وزیر اعظم مودی کی تقریر کے بعد کہا کہ صحافت کا معیارسیلفی صحافی نہیں ہو سکتے ..جھا نے رام ناتھ گوئنکا کو یاد کرتے ہوئے بتایا کہ ایک بار ایک صحافی کی ایک منسٹر نے تعریف کی ، تو گوینکا نے اس صحافی کو نکال دیا .. عمدہ صحافت کی ایک مثال اسی فنکشن میں سامنے آئی جب ٹائمز آف انڈیا کے صحافی اکشے مکل نے مودی کے ہاتھ سے ایوارڈ لینے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ مودی کے ساتھ ایک فریم میں ہونے کا خیال ہی میری زندگی کو جہنم بنا دیتا ...بہار ،سیتا مڑھی کے دلیپ ارن نے صدر جمہوریہ ہند کو لکھے گئے ایک خط میں دریافت کیا ہے:ملک کی وہ آخری کھڑکی کون سی ہے جہاں ایک مرتا ہوا انسان اپنی جان کی بھیک مانگ سکے ؟
اظہار رائے کی آخری کھڑکی بند ہوئی تو زندگی موت سے بدتر ہو جاےگی ...

 

 

[end]

blog comments powered by Disqus