National

Maulana Azad University gets INTACH award for preserving natural rock formation

MAANU gets INTACH award

Maulana Azad National Urdu University has been awarded for creating usable space without disturbing the natural settings within its campus. The areas around some of the rocks and rock formations on the campus have been landscaped and provided with lighting.

The Indian Trust for Art and Cultural Heritage (INTACH) on Tuesday awarded five historic buildings managements for their efforts to conserve them. The Maulana Azad National Urdu University was also given an award for preserving the rock formations at the university. The awards were announced to commemorate World Heritage day which is celebrated on April 18 every year. INTACH Hyderabad had been giving away awards for the past 22 years. 

The other structures: The Khanqah of Hazrat Shah Khamosh, Mecca Masjid, Ravindra Bharathi, The Central Library, Osmania University, EME War Memorial and the rock formations of Maulana Azad National Urdu University were also given awards.A voice silenced “You will be listening to me speak probably for the last time at the INTACH Awards function. I hope I will find my voice and speak my mind once I free myself from this responsibility,” said Sajjad Shahid, co-convenor, INTACH Hyderabad Chapter.

اُردو یونیورسٹی کو چٹانوں کے تحفظ کے لیے ایوارڈ

مولاناآزاد نیشنل اردو یونیورسٹی کو اپنی چٹانوں کے تحفظ کے لیے انڈین ٹرسٹ فارآرٹ اینڈ کلچرل ہیریٹیج(INTACH) کی جانب سے ایوارڈ دیا گیا ہے۔ یہ ایوارڈتوصیف نامہ اور پلیک پر مشتمل ہے۔ اس تقریب کا اہتمام کل سالار جنگ میوزیمکے آڈیٹوریم میں کیا گیا تھا۔ 

توصیفنامہ میں کہا گیا، ”مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی نے اپنے کیمپس میںقدرتی مناظر کو برقرار رکھتے ہوئے اراضی کو قابل استعمال بنانے کی ایک عمدہکوشش کی ہے۔ کیمپس میں موجود خوشنما چٹانوں اور ان کی بناوٹ کو اُجاگرکرنے کے لیے روشنی کے انتظامات کیے گئے ہیں۔ یونیورسٹی کی شان اس کے قدرتیورثے یعنی ان چٹانوں کو اس سال کے کیلنڈر میں نہایت عمدہ طریقے سے پیش کیاگیا ہے۔ مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی نے حیدرآباد کی ان مسحورکنچٹانوں کے تحفظ میں نمایاں کردار ادا کیا ہے۔ 

ذمہدارانِ جامعہ کو فخر کا مقام عطا کرنے والی قدرتی جمال اور شان و شوکت سےمعمور مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی کی یہ خوبصورت چٹانیں واقعتا اسایوارڈ کی مستحق ہیں۔

اسموقع پر مزید پانچ اداروں کو ثقافتی ورثے تحفظ کے لیے ایوارڈ پیش کیا گیاجن میں خانقاہ شاہ خموش، مکہ مسجد؛ کاٹیج انڈسٹریز سیلس ڈپو، گن فاﺅنڈری؛روندرا بھارتی، سیف آباد؛ سنٹرل لائبریری،عثمانیہ یونیورسٹی اور ای ایم ایوار میموریل، سکندرآباد شامل ہیں۔ ان ورثوں کا انتخاب جناب ناصر قریشی،آرکٹیکٹ اور سابق صدر نشین نظامس ٹرسٹ جناب شاہد حسین زبیری نے کیا۔

اسپروگرام کے مہمانِ خصوصی جناب ایس ستیہ نارائنا، چیئرمین ٹی ایس آر ٹی سینے اپنے خطاب میں کہا کہ حکومت نے حال ہی میں ثقافتی ورثوں کے تحفظ کے لیےایکٹ منظور کیا ہے۔ 

جنابگوپال کرشنا، ریاستی کنوینر انٹاک نے کہا کہ ہمیں اس سے متعلق لوگوں میںشعور بیداری پیدا کرنا ہے اور انہیں اس کے متعلق معلومات فراہم کرنا ہے۔جناب سجاد شاہد، شریک کنوینر انٹاک نے ایوارڈس کی تقسیم کے دوران کہا کہثقافتی ورثے ہمیں اپنی قدر و منزلت بتاتے ہیں اور ایک پہچان دیتے ہیں۔محترمہ انورادھا ریڈی، کنوینر انٹاک نے خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ اقواممتحدہ نے اس سال کو ”بین الاقوامی سال برائے فروغِ پائیدار سیاحت “ قراردیا ہے۔ اسی کو نظر میں رکھتے ہوئے ہم نے ان ایوارڈس کا انتخاب کیا ہے۔ 

We hope you liked this report/article. The Milli Gazette is a free and independent readers-supported media organisation. To support it, please contribute generously. Click here or email us at sales@milligazette.com

blog comments powered by Disqus