Press Statements

مولانا ذیشان ہدایتی کی یاد میں خصوصی تعزیتی اجلاس

Report in Urdu on condolence meeting to honour Maulana Zeeshan Hidayati

نئی دہلی، ۲۸؍دسمبر ۲۰۱۱ء ؁ : آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت نے بروز منگل ۲۷؍دسمبر ۲۰۱۱ء ؁ کو اپنے مرکزی دفتر واقع ابوالفضل انکلیو میں مولانا سید ذیشان ہدایتی مرحوم کی یاد میں ایک خصوصی تعزیتی اجلاس منعقد کیا جس کی صدارت صدر مشاورت سید شہاب الدین نے کی اور نظامت کے فرائض کارگزار صدر مشاورت ڈاکٹر ظفرالاسلام خان نے انجام دئے۔

Zeehan Hidayati Condolence Meet

مولانا ذیشان ہدایتی مجلس فکر و عمل اور سفینۃ الہدایۃ جیسی متعدد تنظیموں کی صدارت کے ساتھ ساتھ مسلم مجلس مشاورت کے سرگرم رکن تھے اور مرکزی مجلس مشاورت کے ممبر کی حیثیت سے ملت کے کاموں میں پیش پیش رہتے اور مشاورت کے وفود کے ساتھ ملک کے دوسرے حصوں میں بھی جاتے تھے۔
خصوصی تعزیتی اجلاس میں مولانا ذیشان ہدایتی کے برادر اکبر مولانا سید ذوالقدر رضوی اور برادر اصغر سید مولانا عقیل الغروی کے ساتھ ساتھ مشاورت کے اہم کارکنوں نے شرکت کی جن میں نائب صدر مشاورت محمد جعفر، سکریٹری جماعت اسلامی ہند مولانا رفیق قاسمی، صدر ویلفیر پارٹی، مجتبیٰ فاروق، نوید حامد، شریف الحسن نقوی اور عبد الرشید اگوان نیز صحافی محمد احمد کاظمی، صدر سوشل ڈیموکریٹک پارٹی ای ابو بکر اور صدر پاپولر فرنٹ آف انڈیا ای عبد الرحمن وغیرہ نے شرکت کی۔

مقررین نے مولانا ذیشان ہدایتی مرحوم کی خصوصیات کو اجاگر کیا اور خصوصی طور سے بتایاکہ مولانا ھدایتی عالم با عمل تھے، بہت اچھی پلاننگ کرتے تھے اور جس کسی بات کا فیصلہ کرتے تھے اسے کرکے رہتے تھے۔ شریف الحسن نقوی نے بتایا کہ مولانا ہدایتی اتنی عمدہ پلاننگ کرتے تھے جیسے کوئی پلاننگ کمیشن کا ممبر ہو اور وہ ہر دوسرے تیسرے ماہ کوئی نہ کوئی اجتماع کرتے اور اس کے فیصلوں پر خودبھی عمل کرتے اور دوسروں سے کراتے۔
متعدد مقررین نے مولانا ہدایتی کے اس جری تاریخی موقف کا ذکرکیا جو انھوں نے مسلم تنظیموں کے وفد کے ممبر کی حیثیت سے اگست ۲۰۰۸ ؁ میں کشمیر کے گورنر این این وھرا کے سامنے اپنی تقریر کے دوران اختیار کیا۔ وفد جموں میں مسلم گوجروں کے گاؤں پر حملے اور تباہی کو دیکھ کر آیا تھا اور اس نے گورنر سے اس کا ذکرکیا لیکن گورنر نے اس پر خاص توجہ نہ دی جس کی وجہ سے مولانا ذی شان ہدایتی نے انتہائی سخت اور تلخ لہجے میں گورنر کو لتاڑا اور اس کواپنی قانونی ذمہ داریاںیاد دلائیں۔ وفد کے دوسرے لوگ مولانا ہدایتی کی جرأت پر ششدر تھے ہی، خود گورنر نے یہ ساری بات انتہائی خاموشی اور احترام سے سنی۔

Zeehan Hidayati Condolence Meet

تعزیتی مجلس میں متعدد مقررین نے مولانا ہدایتی کی وسعت مشربی اور ملت کے اتحاد کے لئے دردمند دل رکھنے کو بھی بہت سراہا۔ وہ مسلکی تعصب سے بالاتر تھے اور صحیح معنوں میں شیعہ و سنّی فرقوں میں ہم آہنگی اور اتحاد چاہتے تھے اور ہر ایک کو اعتدال کی تلقین کرتے تھے۔ مولانا عقیل الغروی نے بتایا کہ مولانا ہدایتی کا اعتقاد تھا کہ شیعہ سنّی اتحاد و ہم آہنگی صرف سیاسی بنیادوں پر نہیں، بلکہ علمی بنیادوں پر بھی ہونی چاہئے۔ انھوں نے بتایا کہ مولانا ہدایتی نے اردو عربی فارسی اور انگریزی میں پرچے نکالے جن میں Islam in the Changing World شامل ہے۔ قم (ایران) کے مختصر قیام کے دوران بھی انھوں نے فارسی میں ایک ماہنامہ جاری کیا۔ مولانا عقیل الغروی نے بتایاکہ مولانا ہدایتی کا ذہن منصوبہ سازی کا کارخانہ تھا۔
تعزیتی نشست میں دعا کی گئی کہ خدائے عز و جل مولانا ہدایتی کے درجات کو بلند کریں اور ان کے خاندان اور ملت مسلمہ کوان کانعم البدل عطا فرمائیں۔

 

Issued by
ALL INDIA MUSLIM MAJLIS-E-MUSHAWARAT
D-250, Abul Fazal Enclave, Jamia Nagar, New Delhi-110025
Ph: 26946780 Fax: 26947346 / 2694-7346
Email: mushawarat[@]mushawarat.com

We hope you liked this report/article. The Milli Gazette is a free and independent readers-supported media organisation. To support it, please contribute generously. Click here or email us at sales@milligazette.com

blog comments powered by Disqus