Press Statements

Indian Muslim leaders urge India to scale down ties with Israel

We, leaders of Indian Muslim organisations representing the large Indian Muslim community, are deeply pained and alarmed at the steadily growing Indo-Israeli relations. The latest episode comes in the shape of the visit of the Hon’ble Minister of External Affairs to Israel during which he has talked of cooperation against “international terrorism”, raising Indo-Israeli trade to $ 15 billion from the current $ 5 billion, allowing Israel to open a consulate in Bangalore, signing Extradition Treaty and announcing that soon a Free Trade Agreement too will be signed between the two countries. Reports say that a number of other Indian union ministers are in the wings to visit Israel.

We wish to say that while our External Affairs Minister seeks Israel’s cooperation to fight terrorism, Israel has become the biggest symbol of terrorism in the world. They have continuously executed countless terrorist operations in all parts of the world including killing Iranian, Iraqi and Egyptian scientists. Israel has been responsible for large-scale massacres in Sabra, Shatila, Jenin, Gaza, and many places of occupied Palestine.

We find it difficult to understand how India can ask Israel to cooperate in security while Israel is the fountainhead of terrorism in the Middle East? It is the Zionists who introduced terrorism to the Middle East with acts like blowing up Jerusalem’s King David Hotel which housed the British Government in Palestine (1946), murdering the British minister Lord Moyne in Cairo (1944) and the UN mediator Count Bernadotte in Jerusalem in 1948, or attacking American diplomatic offices in Egypt in 1954 with a view to blame the Egyptians for the same. Today it is the cause of terrorism by occupying Palestinian lands and homes, turning the Palestinians into a nation of refugees and continuously nibbling away even at the small chunks left of Palestine and building illegal settlements there while treating its Palestinian residents as caged animals and keeping the other part (Gaza Strip) under a most cruel siege since June 2007.

Today, Israel is the only illegitimate nuclear power in the Middle East which stockpiles close to a thousand nuclear warheads and continuously refuses to sign NPT. This very entity had earlier destroyed the nuclear facilities of Iraq and Syria and now nags the western countries to destroy for it the Iranian nuclear facilities and military power despite the fact that Iran has signed NPT, allows IAEA inspection of its nuclear facilities and reiterates officially that it will not build a nuclear device.

Israel is even using Mahatma Gandhi’s name to hoodwink us while the fact is that the proposed memorial will be built on occupied and stolen land. This can never be a move to honour a great personality which was totally opposed to the idea of a Jewish homeland on Arab soil.

We very strongly object to the current overtures of our government and say categorically that close ties with Israel are not in India’s best interests. Our security and vital secrets will not be safe if Israel becomes privy of same. We must shun racist Israel as we did oppose Apartheid South Africa. Israel is the only country in the world which has flouted hundreds of UN resolutions and yet talks of peace. We urge the Indian government to stop lip service to Palestine and revert to our age-old policy of supporting the just Palestinian cause which was so dear to the pioneers of our freedom struggle.

1. Maulana Sayyad Jalaluddin Umari, Ameer-e-Jamaat (President),  Jamaat-e-Islami Hind.
2. Dr Zafarul-Islam Khan, President, All India Muslim Majlis-e Mushawarat
3  Maulana Abdul Hameed Nomani, Secretary, Jamiat Ulema-e Hind
4.  Maulana Asghar Ali Imam Mehdi, General Secretary, Jamiat Ahl-e Hadees.
5. Mujtaba Farooq, President, Welfare Party of India
Released 16 January 2012


اسرائیل کے ساتھ حکومت ہند کے بڑھتے ہوئے تعلقات پر مسلم تنظیموں کے رہنماؤں کا اظہار تشویش

نئی دہلی۱۷؍ جنوری ۲۰۱۲:
’’ہندوستان کے وزیر خارجہ اسرائیل کے ساتھ دہشت گردی کے خلاف تعاون کی بات کر رہے ہیں، جب کہ اسرائیل خود دنیا میں دہشت گردی کی سب سے بڑی علامت بنا ہوا ہے۔ وہ دنیا کے مختلف حصوں میں مسلسل بے شمار دہشت گردانہ کارروائیاں کر رہا ہے، ایران ، عراق اور مصرکے سائنس دانوں کو قتل کر رہا ہے اور صبرا ،شا تیلا، غزہ، لبنان اور مقبوضہ فلسطین کے بہت سے مقامات پر بڑے پیمانے پر قتل عام کا ذمہ دار ہے۔ ایسے ملک کے ساتھ تعلقات استوار کرنا اور انھیں استحکام دینے کی کوشش کرنا حقیقت میں دہشت گردی کی حمایت کرنا ہے۔ ان خیالات کا اظہار ہندوستان کی چند بڑی مسلم تنظیموں کے رہنماؤں نے ایک مشترکہ بیان میں کیا۔ یہ بیان مولانا سید جلال الدین عمری، امیر جماعت اسلامی ہند ، ڈاکٹرظفر الاسلام خاں صدر آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت ، مولانا عبدالحمید نعمانی، سکریٹری جمعیتہ العلماء ہند، مولانا اصغر علی امام مہدی جنرل سکریٹری جمعیۃ اہل حدیث اور جناب مجتبیٰ فاروق صدر ویلفیئر پارٹی آف انڈیا کے دستخط سے جاری ہوا۔

ان مسلم رہنماؤں نے کہا کہ گزشتہ دنوں ہندوستان کے وزیر خارجہ نے اسرائیل کا دورہ کیا۔ اس موقع پر دونوں ممالک کے درمیان بین الاقوامی دہشت گردی کے خلاف باہمی تعاون کے موضوع پرگفتگو ہوئی۔ باہمی تجارت کو ۵ بلین سے ۱۵ بلین تک بڑھانے اور اسرائیل کو بنگلور میں کونسلیٹ کھولنے کی اجازت دی گئی۔ نیز مجرموں کی حوالگی کا معاہدہ طے پایا اور اعلان کیا گیا کہ دونوں ممالک کے درمیان جلد ہی آزاد تجارت کا معاہدہ ہوگا۔ یہ بھی خبر ہے کہ آئندہ ہندوستان کے چند مزید وزراء اسرائیل کا دورہ کرنے کے لیے پَر تول رہے ہیں۔ اسرائیل کے ساتھ حکومت ہند کے بڑھتے ہوئے تعلقات ملک کے ہر سنجیدہ شہری کے لیے باعث تشویش ہیں۔

مسلم رہنماؤں نے کہا کہ ہم یہ سمجھنے سے قاصر ہیں کہ ہندوستان کیسے اسرائیل سے سلامتی کے موضوع پر تعاون مانگ رہا ہے، جب کہ اسرائیل خود مشرق و سطیٰ میں دہشت گردی کا سرچشمہ ہے۔ یہ صہیونی ہی ہیں جنھوں نے مشرق وسطیٰ میں دہشت گردی کا آغاز کیا ہے اور لا تعداد دہشت گردانہ کارروائیوں میں ملوث ہیں۔ انھوں نے فلسطینی اراضی پر غاصبانہ قبضہ کر رکھا ہے اور ان پر مسلسل غیر قانونی تعمیرات کر رہے ہیں،فلسطینی قوم کی اکثریت کو پناہ گزین بنا رکھا ہے، فلسطین کے چھوٹے سے باقیماندہ حصے کو بھی تسلیم کرنے میں لیت ولعل سے کام لے رہے ہیں اور ۲۰۰۷ء سے غزہ پٹی کا ظالمانہ محاصرہ کر رکھا ہے۔

مسلم رہنماؤں نے اس بات کی طرف بھی توجہ دلائی کہ آج مشرق وسطیٰ میں اسرائیل واحد نیوکلیائی طاقت ہے، جس کے پاس تقریباً ایک ہزار نیوکلیائی ہتھیار ہیں۔ وہ ایٹمی ہتھیاروں کے پھیلاؤ کو روکنے کے بین الاقوامی معاہدہ (NPT) پر دستخط کرنے سے برابر انکار کر رہا ہے اور وہی ہے جس نے پہلے عراق اورپھر شام کی نیوکلیائی تنصیبات پر حملے کیے اور اب مغربی ممالک کے پیچھے پڑا ہوا ہے کہ وہ کسی طرح ایران کی نیوکلیائی تنصیبات کو تباہ کر دیں اور اس کی عسکری طاقت کو کچل کر رکھ دیں، جب کہ ایران نے NPT پر دستخط کر رکھا ہے، بین الاقوامی جوہری ایجنسی(IAEA) کو اپنی نیوکلیائی تنصیبات کا معائنہ کرنے کی اجازت دے رکھی ہے اور سرکاری طور سے باربار اعلان کر رکھا ہے کہ وہ نیوکلیائی ہتھیار نہیں بنا رہا ہے۔
مسلم رہنماؤں نے مزید کہا ہے کہ اسرائیل مہاتما گاندھی کا نام ہمیں فریب دینے کے لیے استعمال کر رہا ہے۔ اس کے اعلان کے مطابق گاندھی جی کی یاد میں مجوزہ تعمیر مقبوضہ اور ہتھیائی ہوئی سر زمین پر ہوگی۔ یہ در حقیقت اس عظیم شخصیت کی توہین کے مترادف ہے جس نے عرب سر زمین پر یہودیوں کو بسانے کے آئیڈیا کی بالکلیہ مخالفت کی تھی۔

مسلم رہنماؤں نے اسرائیل سے حکومت ہند کے بڑھتے ہوئے تعلقات کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیل کے ساتھ قریبی روابط ہندوستان کے مفاد میں نہیں ہیں۔ اگر وہ ہمارا رازداں بن گیا تو ہماری سلامتی اور ہمارے فوجی راز محفوظ نہیں رہیں گے۔ ہمیں نسل پرست اسرائیل سے اسی طرح دور رہنا چاہیے جس طرح ہم نے نسل پرست جنوبی افریقہ سے دوری اختیار کر رکھی تھی۔ اسرائیل دنیا کا واحد ملک ہے جو اقوام متحدہ کی سیکڑوں قرار دادوں کو خاطر میں نہیں لایاہے اور پھر بھی وہ امن کی باتیں کرتا ہے۔

انھوں نے حکومت ہند سے مطالبہ کیا کہ وہ فلسطین کے موضوع پر زبانی جمع خرچ بند کرے اور فلسطینی کاز کی حمایت کی قدیم پالیسی اختیار کرے جسے تحریک آزادی کے رہنما پسند کرتے تھے۔

We hope you liked this report/article. The Milli Gazette is a free and independent readers-supported media organisation. To support it, please contribute generously. Click here or email us at

blog comments powered by Disqus