Islamic Perspectives
فتویٰ قرآن کی عبارت نہیں ہے
The Milli Gazette
Published Online: Apr 06, 2012
صدر مسلم مجلس مشاورت
بعض مفتیان کرام نے حالت نشہ میں دی گئی طلاق کے جواز پر اعتراضکرنے والوں کے خلاف سخت ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے یہانتک کہہ ڈالا ہے کہ’’قرآن کی لکھی ہوئی عبارت کبھی غلط نہیں ہوتی‘‘۔
یہ انتہائی غلط بیانیاور تعصب کی بات ہے۔مذکورہفتوی کسی بھی صریحآیتِ قرآنی پر مبنی نہیںہے ورنہ کسی مؤمن کے لئے اس کے بارے میں اعتراضکی گنجائش نہیں تھی۔ معاملہ ایک فقہی رائے کا ہے جس پر امت کا اجماع نہیںہے۔ جہاں امام مالکؒاور امام ابوحنیفہؒنشہ کی حالت میں طلاق کے جوازکے قائل ہیں وہیں امام احمدؒ ، امام شافعیؒاپنے ایک قول میں اور ظاہریہاس قسم کی طلاق کے جواز کے قائل نہیں ہیں۔ اور ان کا استدلالیہ ہے کہ جبحالت نشہ میں نماز جائز نہیں ہے تو حالت نشہ میں طلاق کیسے جائز ہوگی۔ امامبخاریؒبھیاس رائے کے قائل ہیں ، اور ان کے مطابق یہی حضرت عثمانؓ بنعفان، حضرت عبداللہ بن عباسؓ اور حضرتعمربن عبدالعزیزؒوغیرہ کی بھیرائے ہے کہ پاگل پن اور نشہ کی حالت میں طلاق نہیں پڑتی ہے۔شیخ الاسلامابن تیمیہ اورابن القیم وغیرہ کیبھی رائے ہے کہ نشہ کی حالت میں طلاقواقع نہیں ہوتی ہے کیونکہ طلاق دینے والا غیر عاقلہوتاہے اور اس حالت میںاس کے دوسرے تصرفات بھی جائز نہیں ہوتے جیسے خرید و فروخت اور ہبہ وغیرہ۔
مصر میں، جہاںقدیم ترکی اثر کی وجہ سےعدالتوں میں فقہ حنفی پر عملہوتا ہے ، ستمبر ۲۰۰۱ء میں قاہرہ کی ایک عدالت نے نشہ کی حالت میں طلاقکو باطل قرار دیا تھاجس کی وجہ سےمصری صحافت میں یہ مسئلہ چھڑگیا تھا۔ازہر کے اغلب علماء کی رائے یہ تھی کہ نشہ کی حالت میں طلاق اسی طرح باطلہے جیسے مجبور کئے جانے پر طلاق (طلاقالمکرہ)، سونے کی حالت میں طلاق (طلاقالنائم) اور غصہ کی حالت میں طلاق(طلاق الغضبان) وغیرہ۔ اسلامی فقہ اکیڈمینے بھی قاضی مجاہد الاسلام قاسمیؒکے زمانے میں اکثریتِ رائے سے نشہ کیحالت میں طلاق کو باطل قرار دیا تھا۔
علماء کو چاہئے کہ ایسے مسائل میں،جن کے بارے میں امت میں اختلاف رہا ہے،ایسے تعصب کا مظاہرہ نہ کریں ،اُسے اسلام اور کفر کا مسئلہ نہ بنائیںاور جہاں تک ہوسکے امت کے لئے آسانی پیدا کرنے کی کوشش کریں۔




ShareThis


