Special Reports

اگر یہ لاش کسی برہمن کی ہوتی... ؟ What if this dead body was of a Brahmin...?

What if this dead body was of a Brahmin...? Saturday 9 June 2012, 7am in the morning, cousin of murdered Qateel Siddiqi called and said that he has arrived at Jamaat-e Islami's Pune office from Mumbai.....
اگر یہ لاش کسی برہمن کی ہوتی... ؟
مشتاق مدنی
سنیچر ۹؍ جون 2012 کی صبح سات بجے مقتول قتیل صدیقی کے ماموں زاد بھائی افروز کا فون آیا کہ وہ ممبئی سے پونے جماعت اسلامی کے دفتر پہنچ چکے ہیں۔ سنیچر کی صبح سے قبل جمعہ کی شب ان سے اور ان کے بھائی کفیل صدیقی سے انجم انعامدار اور انور باغبان کی دربھنگہ بات ہوچکی تھی۔ صدمہ سے نڈھال ان کے اہل خانہ بڑی بیتابی سے لاش کا انتظار کررہے تھے۔ مگر لاش کا حصول اور اسے بحفاظت دربھنگہ پہنچانا کوئی آسان کام نہ تھا۔ ہمارے نہایت بے حس اور مسلمانو ں کے تعلق سے بے رحم انتظامیہ کی ہزاروں مصیبتوں پر بھاری کارروائی سے گزرنا تھا۔ دس بجے تک انجم انعامدار، انور باغبان، راقم الحروف، پروفیسر اظہر وارثی، ایڈوکیٹ ایم ایم سید اور فیروز میٹھی بور والا جماعت اسلامی کے دفتر پہنچ گئے۔ وہاں سے صلاح و مشورے کے بعد یہ مختصر سا قافلہ ایروڈا پولیس اسٹیشن واقع شاستری نگر روانہ ہوا جہاں FIR درج کرانے کے علاوہ دیگر قانونی کارروائی انجام دینا تھی۔ سینئر انسپکٹر کشور جادھو نے سبھوں کو معمولی انتظار کے بعد اپنے آفس میں بلوا لیا اور ہر ایک کے تمہیدی تعارف کے بعد قتیل صدیقی کے اہل خانہ سے دربھنگہ بات چیت شروع ہوئی۔ انسپکٹر جادھو اس بات کا تیقن چاہتے تھے کہ افروز شیخ واقعی قتیل کے ماموں زاد بھائی ہیں یا نہیں اور کیا انھیں لاش کے سونپے جانے پر اہل خانہ کو کوئی اعتراض تو نہیں۔
جیسے جیسے سورج کی حدت بڑھنی شروع ہوئی میڈیا کے لوگوں کا تانتا لگنا شروع ہوگیا۔ مراٹھی روزنامہ سکال، انگریزی روزنامے ٹائمز آف انڈیا، انڈین ایکسپریس، ڈی این اے، ٹی وی چینلوں میں ہندی آج تک، این ڈی ٹی وی کے نمائندوں نے پولیس اسٹیشن کے احاطہ میں ڈیرا ڈال دیا۔ سماجی کارکنوں کی مختصر سی ٹیم کے نمائندے راشٹر پریمی کرتی سمیتی کے صدر اور نڈر اور جوشیلے سماجی کارکن انجم انعامدار، جماعت اسلامی پونے کے صدر پروفیسر اظہر وارثی اور ممبئی سے تشریف لائے فیروز میٹی بور والا یکے بعد دیگرے محاذوں پر اپنی فعالیت اورتجربہ کا بہترین مظاہر ہ کررہے تھے۔ انھیں دیکھ کر یک گونہ خوشی اس بات کی ہوتی تھی کہ مسلمانوں کی روایتی اور قدرے خائف قیادت سے مسلمانو ں کی نئی اور نوجوان قیادت بے غرض اور نڈر ہونے کے ساتھ ساتھ تام جھام کے بھونڈے چسکوں اور خود نمائی اور بڑبولے پن کی وبا سے یکسر پاک اور صحیح معنوں میں ملی درد رکھنے والی قیادت ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جو پونے کے لاکھوں مسلمانوں کی آبادی میں کوہ نور کا درجہ رکھتے ہیں اس لیے کہ ان میں ہمارے ’ہندوتوادی سسٹم‘ سے لڑنے اور لوہا لینے کا حوصلہ ہے اور یہ سچ بات، چاہے وہ کتنی ہی کڑوی کیوں نہ ہو، ڈنکے کی چوٹ پر کہنے میں ذرا نہیں ہچکچاتے۔ع
ایں سعادت بزور بازو نیست
تا نہ بخشد خدائے بخشندہ
انسپکٹر جادھو نے قتیل کے اہل خانہ سے تفصیلی گفتگو کے بعد ضروری کاغذی کارروائی شروع کردی۔ کارکنوں کا کہنا تھا کہ قتیل کو دہلی پولیس نے گرفتار کیا تھا پھر اسے کرناٹک پولیس کے حوالے کیا گیا اور اب وہ ایروڈا جیل کے ہائی سیکوریٹی والے ’انڈا سیل‘ میں قتل کردیا گیا۔ اس لحاظ سے اس کی لاش اس کے آبائی گاؤں دربھنگہ پہنچانے کا انتظام بھی سرکار کو کرنا چاہیے۔ اسی درمیان قتیل کے والد نے یہ بیان میڈیا کو دیا کہ ان کے بیٹے کے قتل میں IB اور ATS دونوں کا ہاتھ ہے۔ اس لیے کہ قتیل کو اگلے ہی روز دہلی پولیس کے حوالے کیا جانا تھا اور دہلی جانے سے صرف ایک دن قبل اس کا بہیمانہ قتل جیل انتظامیہ کی IB اور ATS سے ملی بھگت کے بغیر نہیں ہوسکتا۔
اسی دوران بہار سے خبر آئی کہ دربھنگہ اور پٹنہ کے سماجی حلقوں اور حقوق انسانی کی فعال تنظیموں نے نتیش کمار حکومت پر دباؤ ڈالنا شروع کردیا ہے کہ قتیل کے جسد خاکی کو سرکاری خرچ پر دربھنگہ لایا جانا چاہیے۔ دوسری خبر یہ تھی کہ نتیش کمار کی براہ راست بات چیت مہاراشر کے وزیر اعلیٰ پرتھوی راج چوہان سے ہورہی ہے۔ تیسری خبر یہ کہ بہار کے ہوم سیکریٹری نے مہاراشٹر کے ہوم سیکریٹری سے رابطہ قائم کر رکھا ہے۔ انجم انعامدار کو پٹنہ کے ایس پی کا براہ راست فون آیا کہ قانونی کارروائی میں کوئی رکاوٹ آئے تو فوراً مجھ سے رابطہ کریں بلکہ انھوں نے سینئر انسپکٹر کشور جادھو سے فون پر بات چیت بھی کی۔ ماحول کچھ یوں بننا شروع ہوگیا تھا کہ بہار اور مہاراشٹر کی سرکاریں اس معاملہ کو سنجیدگی سے لے رہی ہیں اور قتیل کی لاش کو سرکاری خرچ پر دربھنگہ لیجایا جائے گا۔ اس دوران میڈیا نے پولیس اسٹیشن میں موجود سماجی کارکنوں سے بیانات لینے شروع کردئیے۔ انجم انعامدار نے کہا کہ یہ ایک کھلا راز ہے کہ قتیل کو منصوبہ بند سازش کے تحت اسی طرح مارا گیا جس طرح شاہد اعظمی کو مارا گیا تھا اور اس کے پس پردہ اے ٹی ایس سے کہیں زیادہ IB کا ہاتھ لگتا ہے۔ فیروز میٹھی بور والانے کہا کہ یہ ایک حقیقت ہے کہ IB کٹر چت پاون برہمنوں پر مشتمل ایک ایسا ادارہ ہے جو انٹلی جنس کی آڑ میں خطرناک دہشت گرد کارروائیاں اسی طرح انجام دیتا ہے جس طرح پاکستان میں ISI انجام دیتا ہے۔ جس طرح ISI پاکستان میں ایک زبردست Power Centre بن چکا ہے اسی طرح IB بھی پاور سینٹر ہے جو کسی ادارہ بلکہ پارلیمنٹ کو بھی جواب دہ نہیں۔ اسی IB نے متعدد بم بلاسٹ کے ماسٹر مائنڈ اپنے برہمن بھائیوں کی پہچان پوشیدہ رکھنے کے لیے ہیمنت کرکرے کا قتل کیا ہے بلکہ اس ایک شخص کے قتل کے لیے 26/11 کی آڑ میں سینکڑوں جانو ں کی بلی دی ہے۔ پروفیسر اظہر وارثی نے میڈیا کو بتایا کہ یہ انتہائی شرم کی بات ہے کہ جیل کی ہائی سیکوریٹی میں قتیل کا قتل ہوجاتا ہے اور انتظامیہ اس کا الزام دو پیشہ ور مجرموں پر ڈال دیتا ہے جو پہلے ہی سے قتل کے جرم میں ماخوذ ہیں۔ انھوں نے کہا کہ یہ ایک Cold Blooded Murder ہے جس کی آزدانہ جانچ سی بی آئی ہونی چاہیے اس لیے کہ سی آئی ڈی محض حکومت کے ہاتھ میں کھیلنے والے مہرے سے زیادہ وقعت نہیں رکھتی۔ انھوں نے یہ بھی کہا کہ اگر حکومت میں ذرا بھی شرم و حیا اور احساس ذمہ داری ہے تو وہ اس لاش کو اپنے خرچ پر دربھنگہ پہنچانے کا انتظام کرے گی۔ پندرہ روزہ اصول کے مدیر مشتاق مدنی نے کہا کہ آج تک ایسا کیوں نہ ہوا کہ کسی برہمن آتنک وادی پر جو گذشتہ چار پانچ سالوں سے بم دھماکے میں ماخوذ جیلوں میں قید ہیں، کوئی قاتلانہ حملہ ہوا ہو۔ اس کے برعکس دیکھا یہ گیا کہ ان کی کسی وی آئی پی کی طرح آؤبھگت ہوتی ہے اور خاص کر سادھوی پرگیہ سنگھ تو بیماری کی آڑ میں پورے اسپتال میں ایک وارڈن کی طرح گھومتی رہتی ہے پھر بھی آج تک اس کا بال تک بیکانہ ہوا اور قتیل احمد کو ہائی سیکوریٹی کے باوجود قتل کردیا گیا۔
دوپہر تین بجے کے لگ بھگ انجم انعامدار، پروفیسر وارثی، ایڈوکیٹ ایم ایم سید اور ایڈوکیٹ کائنات (ایڈوکیٹ رحمن صاحب کے اسسٹنٹ) افروز کو لے کر پولیس جیپ میں سسون اسپتال پہنچے تاکہ لاش کی شناخت کے ساتھ دیگر کاغذی کارروائی کو پورا کرسکیں۔ اس وقت تک بھی یہ امید بندھ چلی تھی کہ سرکار کی جانب سے کوئی نہ کوئی مثبت اقدام اس لاش کو بحفاظت دربھنگہ پہنچانے کا ہوہی جائے گا۔ شام ہوتے ہوتے سب کے سب کارکنان سسون اسپتال کے مارچری (مردہ خانہ) پہنچ گئے۔ وہاں پولیس آفیسرس کا ایک بڑا عملہ موجود تھا۔ فیروز میٹھی بور والا اگر ایک طرف اے ٹی ایس چیف راکیش ماریہ کے تو انجم انعامدار پٹنہ والوں کے رابطہ میں تھے۔ فیروز میٹھی بور والا نے بتایا کہ راکیش ماریہ نے کہا کہ قتیل کی لاش کو دربھنگہ پہنچانے کا پورا خرچ میری طرف سے لے لو مگر یہ صلاح کارکنان کو بوجوہ پسند نہیں آئی۔ رفتہ رفتہ سرکاری گفتگو کسی بھی خاطر خواہ نیتجہ پر پہنچے بغیر ختم ہوگئی بلکہ ایک پر اسراسر خاموشی چھا گئی۔ سسون اسپتال میں موجود ایک پولیس والے نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ ’شاسن‘ یعنی انتظامیہ سے کسی بھی مدد کی توقع فضول ہے۔ یہ معاملہ دہشت گردی کا ہے اور اس میں نہ تو کوئی وزیر ملوث ہوگا اور نہ ہی کوئی بیوروکریٹ۔ بہتر یہی ہے کہ آپ لوگ اپنے طور پر اخراجات کا انتظام کرلیں۔ انتظامیہ کا یہ رویہ جتنا افسوسناک تھا اسی قدر تضحیک بھرا بھی تھا کہ مسلمان کی لاش ہے وہ چاہے مارچری میں سڑتی رہے یا لے جائی جائے اسے کوئی پرواہ نہیں۔ اس پر اصول کے مدیر مشتاق مدنی نے پولیس انسپکٹر سے سوال کیا کہ اگر یہی لاش مسلمان کی بجائے برہمن کی ہوتی تو کیا ہوتا؟ انسپکٹر خاموش رہا جس پر مشتاق مدنی نے کہا کہ اگر یہ لاش برہمن کی ہوتی تو نہ صرف چیف منسٹر اور ہوم منسٹر ممبئی سے یہاں آتے بلکہ اس لاش پر پھول نچھاور کرنے کے لیے یہاں برہمنوں کا ایک تانتا لگ جاتا۔ بالکل اسی طرح جس طرح ناسک اور پونے کی کورٹ میں جب لیفٹننٹ کرنل پروہت پرساد کو لایا گیا تو اس دہشت گرد پر ہزاروں پھول اس طرح نچھاور کیے گئے گویا وہ جنگ آزادی کا کوئی معزز مجاہد ہے۔ جس پر انسپکٹر خاموشی سے صرف سر ہلاتا رہا۔
واضح رہے کہ قتیل کے پونے کے ایروڈا جیل میں قتل کی خبر مسلسل ٹی وی چینلوں پر آرہی تھی جس سے پونے سمیت پورا ہندستان واقف تھا۔ مگر آپ کو یہ جان کر تعجب ہوگا کہ جب اس لاش کو حاصل کرنے اور انتظامیہ اور سسٹم کو آڑے ہاتھوں لینے کا وقت آیا تو پونے کی فعال سماجی تنظیمیں، پر جوش کارکنان، ملی قائدین، بڑی بڑی سمجھی جانے والی (حقیقتاً بہت بونی اور چھوٹی) شخصیات کو گویا سانپ سونگھ گیا ۔ حد تو یہ کہ کسی ایک شخص کا فون تک کسی کارکن کو نہیں آیا نہ ہی کسی نے سسون اسپتال میں آنے کی زحمت گوارا کی۔ بہر حال قتیل کے جسد خاکی کو افروز کے ہمراہ پونے سے بذریعہ ایمبولنس ممبئی اور ممبئی سے پٹنہ بذریعہ ہوائی جہاز بھیجنے کا کل خرچ لگ بھگ پچاس ہزار روپیہ تھا۔ ایسے نازک وقت میں جماعت اسلامی نے صحیح معنوں میں اسلامی اور ملی حمیت کا مظاہرہ کرتے ہوئے پیش رفت کی اور کل خرچ کا ساٹھ فیصد سے زیادہ بوجھ برداشت کرلیا۔ دیگر اخراجات کارکنان نے کچھ اپنی جیب خاص سے اور کچھ چندہ کرکے جمع کرلیے، حد یہ کہ دہلی سے ملی گزیٹ کے مدیر ڈاکٹر ظفر الاسلام خان نے جو شروع سے اس کیس میں دلچسپی لے رہے تھے نے بھی مدد کی پیش کش کی ۔ بہر حال رات تقریباً ڈیڑھ بجے انجم انعامدار، افروز اور قتیل کی لاش کو لے کر ایمبولنس کے ذریعہ ممبئی ائیر پورٹ روانہ ہوگئے جہاں صبح آٹھ بجے کی فلائٹ سے انھیں پٹنہ روانہ کردیا گیا۔ اس دل ہلادینے والے واقعہ کے تعلق سے اتنا ہی کہا جاسکتا ہے کہ اس مرتبہ اے ٹی ایس، حکومت اور بیوروکریسی نے مسلمانو ں کے تعلق سے بے رخی، بے حسی اور ظلم کی حد کردی اور اگر اب بھی مسلمان من حیث القوم نہ جاگے اور ہمارے نام نہاد قائدین شتر مرغ کی طرح غیرت مندی کے مظاہرے سے باز رہے تو پھر انھیں آئندہ آنے والے سخت ایام کے لیے تیار رہنا چاہیے۔قتیل کا سفاکانہ قتل، محض قتل نہیں ایک اشاریہ ہے کہ اب ہندستانی سسٹم مسلمانوں پر زندگی تنگ کرنے پر تل گیا ہے۔


Mushtaque Madni is Editor of Urdu Fortnightly, Usool, published from Pune, Maharashtra

We hope you liked this report/article. The Milli Gazette is a free and independent readers-supported media organisation. To support it, please contribute generously. Click here or email us at sales@milligazette.com

blog comments powered by Disqus