National

"Enemy" Property Bill — immediate action required

Original_enemy-property-indian-muslims

Update: Deadline extended by one month (15-Mar-2011)

Forty two years after it was first enacted, the government of India is going to pass a revised act through Parliament to deprive thousands of Indian Muslims of their legal right to seek judicial redressal and claim their properties wrongly and unjustly confiscated by the Custodian of Enemy Properties who claims that these properties belong to "enemies" while their owners and occupiers are Indian Muslims enjoying full citizenship and civil rights as Indian citizens. A ray of hope was kindled after the long-drawn legal battle of Raja Mahmoodabad last year but it is being defeated now by a legal sleight of hand. The first attempt was made last summer when the Union home minister tried to sneak in an ordinance insulting and defeating the purpose of Parliament. The move was defeated due to a quick and strong reaction of civil society. Now the home ministry is seeking to pass it through Parliament with some cosmetic changes which will deprive thousands of Indian Muslims of their rights and strip of their right to seek justice through courts. The draft act has been referred to the parliamentary select committee on home affairs which has sought comments and interventions by civil society to reach it by 15 March 2011. In other words, there is not much time left for us to react. Leaders of Muslim community and all others concerned are requested to quickly intervene in this matter by fax or email which is as under:

Shri D. K. Mishra
Joint Director, Rajya Sabha Secretariat
Room No. 142, First Floor
Parliament House Annexe
New Delhi-110001
Tel: 011-23035410
Fax: 011-23012007
 
Full details of the  proposed act, a commentary on it etc are found here:
 
Commentary on the proposed enemy property act
Press release on the enemy property act
Text of the propsed enemy property act
 
Read the above report in Urdu
 
Dr Zafarul-Islam Khan, Editor, The Milli Gazette
 
 
Related Articles:
  1. Enemy Property Act: a Backgrounder

    23 Oct 2010 ... It's time the Legislature intervenes in this juggernautic assault on judiciary and the Muslim Personal Law.

  2. Enemy Property: legal short circuit

    30 Nov 2010 ... The hue and cry for such 'miserable' tenants by BJP makes no sense. The three-generation tenants are willing to buy the property and the ...

  3. Property owners in Old Delhi harassed, MG Vol. 1 No. 2

    During the last 18 months about 500 Muslim property owners of Old Delhi have been issued notices under sections of Enemy Property Act (EPA) 1968 which was ...

’’ دشمن جائیداد‘‘ کے بارے میں مجوزہ ترمیمی قانون کے سلسلے میں چند قابل غور پہلو
ڈاکٹرظفرالاسلام خان

ایڈیٹر ملی گزٹ


’’
دشمن جائداد قانون‘‘ Enemy Property Act 1968، ۲۰اگست ۱۹۶۸میں لاگوہوا۔ اصل میں ۱۹۶۵میں پاکستان سے جنگ کے پس منظر میںDefence of India Rules 1971 کے تحت بنےCustodian of Enemy Property کے سلسلے میں اس ایکٹکو لایا گیا تھا۔ یہ ایکٹ ایک عبوری قانون تھا اور ایک خاص مقصد کے لئے بناتھا جو اصل مالک (یا اس کے وارث) کو اس کے حق سے محروم نہیں کرتا اورگورنمنٹ کو اس کا مالک نہیں بناتا۔ تاہمCustodian of Enemy Propertyکےمحکمہ میں زبردست دھاندلیاں اور بے اعتدالیاں ہیں جن کے باعث عملاًاصلمالکوں سے زیادہ اسے اختیار ملے ہوئے ہیں۔ یاد رہے کہ کیمبریج یونیورسٹی کےپروفیسر جیا چیٹرجی کا کہنا ہے کہ یہ شعبہ بدعنوانیوں اور بے ایمانیوں کاگڑھ ہے۔


۱۵نومبر ۲۰۱۰میں لوک سبھا میں ایک ترمیمی بل بعنوانThe Enemy Property (Second Bill, 2010) (Bill No. 126 of 2010) Amendment and Validatorکےذریعہ مذکورہ ایکٹ کا حلیہ ہی بدلنے کی کوشش کی جارہی ہے:
یہ ترمیمی بل اس عذر کے ساتھ پیش کیا گیا ہے کہ: (۱) دشمنی کی تعریف کےمطابق آج کوئی ملک ہمارا دشمن نہیں ہے اس لئے اس ایکٹ کو تبدیل کرنا چاہیے۔(۲) مذکورہ ایکٹ کے ضوابط سےCustodian کو اپنے کام کاج میں دشواری ہوتیہے۔
مذکورہ بالا ایکٹ (ملاحظہ ہو سیکشن نمبر ۸) کا مقصد تھا کہ’’ دشمن‘‘ کیجائداد کا تحفظ اورنظم و انصرام کیا جائے۔سیکشن ۲(B) میں’’دشمن‘‘ Enemy کیجو تعریف کی گئی ہے اس کے مطابق ہندوستان کا کوئی باشندہ اس میں نہیںآتا۔موجودہEnemy Property Amendment Bill بنیادی طور پر اس ایکٹ کی اساسکو ہی بدلنا چاہتاہے۔ اس سے ۱۹۷۵، ۱۹۷۶، ۱۹۸۱اور ۱۹۹۱میں دیے گئے کلکتہہائی کورٹ کے فیصلوں کی نفی ہوجاتی ہے۔ وہ درخواست گزار جو اپنی جائدادوںکے دہائیوں سے مالک چلے آرہے ہیں ، وہ بغیر کسی واضح وجہ کے ان سے محرومہوجائیں گے۔ اہم پہلو یہ ہے کہ مذکورہ ایکٹ کے سیکشن (۲) میں ترمیم نہیں ہوسکتی کیونکہ وہ انڈیا کے کسی باشندہ پر لاگو نہیں ہوتا۔ ترمیم کے لئے جوبل پیش کیا گیا ہے وہ ایکٹ کے سیکشن (۵) میں ترمیم کرنا چاہتاہے اور ایکذیلی شق (۳) کے ذریعہ چاہتا ہے کہ جائداد کی ملکیتCustodian کو دیدی جائے۔اس سے معزز سپریم کورٹ کیے فیصلہ کی نفی ہوتی ہے۔ سپریم کورٹ نے کہا تھاکہ باوجود اس کے کہ (۱) دشمن شہریت بدل جانے سے دشمن نہیں رہا، یا (۲) اسکا قانونی وارث ایک ہندوستانی ہے، یا (۳) وہ دشمن ملک کا باشندہ نہیں پھربھی جائدادCustodian کے ہاتھ میں رہے گی اور اسے اس سے تمام فائدے اورحقوق حاصل ہوں گے۔
یو ں تو مذکورہ ایکٹ کا سیکشن نمبر ۱۰ہیCustodian کو جائداد کے فروخت کاسرٹیفیکیٹ جاری کرنے کا حق، رجسٹریشن کا حق وغیرہ سارے اختیارات اس حد تکدیتا ہے کہ اصل مالکین کے اختیارات کی نفی ہوجاتی ہے۔ اس کے باوجود ترمیمیبل یہ چاہتا ہے کہCustodian کو ویسا ہی قانونی اختیار دیا جائے جو سِولکورٹ کو حاصل ہوتاہے۔ اس کی رو سے وہ (۱) دستاویزات کی تلاش و معائنہ(۲) حسابات وغیرہ کی تیاری (۳) دستاویزات کے معائنہ کے لئے کمیشن بھیجنے (۴) گواہوں کی حاضری اور حلف لیتے وقت ان کے جائزہ کے اختیار کا مالک بن جائےگا۔
ترمیمی بل کے سیکشن ۱۸میں واضح طور پر توسیع کی گئی ہے اور یہ اضافہ کرنےکی تجویز ہے کہ: (۱) وارث کو کورٹ کے ذریعہ اپنی قانونی ملکیت ثابت کرنیہوگی۔ (۲) اس دفعہ کا اضافہ کیاگیا ہے کہ جائداد سے وارث کو جوبھی آمدنیملتی ہے وہ اُسے مرکزی حکو مت کی ایماء کے بغیر نہ ملے گی۔ سیکشن ۱۸(C) کا تعارف مرکزی حکومت کو جائداد کی خرید و فروخت کا مطلقا اختیار دیتا ہے،جس میں کوئی تحفظات بھی نہیں دیے گئے۔ تقریباً اسی طرح کی قابلِ اعتراضترمیمیں سیکشن ۲۶میں بھی تجویز کی گئی ہیں۔

 

قابلِ ذکر یہ ہے کہ آر۔ایس۔ایس نے اس سلسلہ میں ایک کانفرنس منعقد کی ہے،اور باقاعدہ مہم چلاکر وہ وزرات داخلہ کی اسٹینڈنگ کمیٹی کو ہزاروں خطوطبھیج رہی ہے کہ اس قانون کو زیادہ سے زیادہ سخت بنا دیا جائے تاکہ مسلمانانہند کو کوئی بھی فائدہ اس سے نہ پہنچنے پائے۔
اگر یہ ترمیمی بل پاس کر دیاگیا تو اس قانون کے نفاذ کے بعد کوئی بھی شخص’’دشمن جائداد‘‘ Enemy Property کے سلسلہ میں کسی بھی قانونی کارروائیکرنے کے حق سے محروم کردیاجائے گا اور ہندوستان کا باشندہ ہونے کے باوجودحق وراثت اور حق ہبہ وغیرہ سے متعلق معاملات کو کسی عدالت میں نہیں لاسکےگا۔


یہ جارحانہ اور ظالمانہ قانون دراصل عدالت علیا یعنیسپریم کورٹ کے فیصلےاور دیگرہائی کورٹوں کے فیصلوں کو انتظامیہ کے ذریعے کا لعدم کرنے کیایک مذموم حرکت ہے اور ساتھ ہی ماضی میں ہوئی بددیانتی اور بے ایمانی پرپردہ ڈالنے کی کوشش ہے۔ خدانہ کردہ اگر یہ مجوزہ قانون باقاعدہ قانون کیشکل اختیار کرلیتا ہے تو اس سے بد عنوانیوں اور بی ایمانیوں کے ایک عظیمسلسلے کا آغاز ہوجائے گا۔Enemy Property Act 1968 کو بنے ہوئے بیالیس سالہوگئے اور اب (۴۲) بیالیس برس کے بعد اس ایکٹ کے ترمیم کرنے کی کیوں ضرورتمحسوس کی گئی۔ حقیقت یہ ہے کہ ’’سپریم کورٹ‘‘ میں راجہ محمود ابادکے حق میںفیصلے کے بعد بہت سے لوگوں کو عدالت سے انصاف ملنے کی امیدیں بڑھیں۔ یہمجوزہ قانون ان سب لوگوں کی محنتوں اور حقوق کو رائگاں کرنے اور ان کیجائدادوں کو ہڑپنے کے ارادے سے لوک سبھامیں لایا گیا ہے۔
یہ مجوزہ قانون نہ صرف ہندوستان کے مسلمانوں کو نشانہ بنا کر ان کے حقوق سےانھیں محروم رکھنا چاہتاہے بلکہ اس قانون کے نفاذ کے بعد کوئی شخص عدالتمیں اس معاملے (یعنیEnemy Property ) کے سلسلے میں قانونی کارروائی کرنےکے حق سے بھی محروم کردیا جائے گا اور ہندوستان کا باشندہ ہونے کے باوجودحق وراثت اور حق ہبہ وغیرہ کے قوانین کسی عدالت میں نہیں لا سکے گا۔ اسنفاذ کے بعد ایک ایسی نظیربن جائے گی کہ کسی وقت بھی ملک کی سالمیت وتحفظ کا بہانہ بناکر مسلمانان ہند کے لئے پریشان کن قوانین بنائے جانے کاجوزبن جائے گا۔
اس مجوزہ قانون کے تحت بظاہر راجہ محموداباد کے لئے ذاتی طور پر کچھرعایتیں رکھی گئیں ہیں لیکن غریب اور بیکس مسلمانوں کے لئے زحمتوں اورمشاکل کے ایک نئے باب کا آغاز بھی اس میں پوری طرح مضمر ہے۔
اس مجوزہ قانون کو پارلیمنٹ کی اسٹینڈنگ کمیٹی برائے امور داخلہ کے حوالہکر دیا گیا جس کے سربراہ جناب ونکیا نائڈو (ممبر راجیہ سبھا ۔بی جے پی) ہیں۔ اس کمیٹی نے عوام سے درخواست کی ہے کہ تحریری طور پر اپنی رائے اوراعتراضات سے اُسے ۱۵ مارچ ۲۰۱۱ تک مندرجہ ذیل پتہ پر باخبر کریں:

Shri D.K. Mishra
Jt. Director, Rajya Sabha Secretariat
Room No. 142, First Floor
Parliament House Annex
New Delhi - 110001
Tel: 011-23035410
Fax: 011-23012007
Email: rsc-ha@sansad.nic.in
Website: http://rajyasabha.nic.in

مذکورہ بل کا مسودہ راجیہ سبھا کی ویب سائٹhttp://rajyasabha.nic.in پر موجود ہے۔ یہ ساری  تفصیلات ملی گزٹ کی وبسایٹ : www.milligazette.comپر موجود ہیں ۔

We hope you liked this report/article. The Milli Gazette is a free and independent readers-supported media organisation. To support it, please contribute generously. Click here or email us at sales@milligazette.com

blog comments powered by Disqus