Press Statements

شام کی لڑائی کو شیعہ سنی کشمکش کا رخ دینے کی مذمت

نئی دہلی، ۳جون ۲۰۱۳ء : ہندوستانی مسلم تنظیموں کی وفاق آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت نے شام میں جاری کشمکش میں اچانک ابتری  کے بارے میں اپنی گہری تشویش کا اظہار کیا اور ہندوستانی مسلم کمیونٹی کو اس نئے خطرے کے بارے میں خبردار رہنے کو کہا۔

مسلم مجلس مشاورت کے صدر ڈاکٹر ظفرالاسلام خان نے آج ایک بیان میں شام میں جاری کشمکش میں آنے والی اچانک اور غیرضروری ابتری کی مذمت کی جو کہ شام کی کشمکش میں حزب اللہ کے لڑاکو عناصر کے داخل ہونے اور پھر قابل احترام سنی عالم شیخ یوسف القرضاوی کے اس بیان سے آئی ہے جس میں انھوں نے ''شیعہ سازشوں''  کو ناکام بنانے کے لئے شام میں عمومی جہاد کی دعوت دی ہے۔ یہ دونوں تحرکات واضح طریقے سے مسلکی معنی کے حامل ہیں، جس کی وجہ سے شام میں جاری کشمکش ایک شیعہ-سنی لڑائی میں تبدیل ہوجائے گی۔

ڈاکٹر خان نے کہا کہ شام میں جاری سیاسی اور جمہوری اور عوامی کشمکش  ایک غیرعوامی، گروہی اور خاندانی ڈکٹیٹرشپ کو ختم کرنے کے لئے ہے، لیکن اگر یہ کشمکش شیعہ سنی لڑائی میں تبدیل ہو جائے گی تو اس کے نتیجے میں ایک ایسا شیعہ -سنی انقسام وجود میں آئے گا جس  کا زخم صدیوں میں بھی نہیں بھر پائے گا۔

ڈاکٹر خان نے کہا کہ شامی  کشمکش میں غیرملکی طاقتوں اور بیرونی لڑا کا نوجوانوں کی شرکت کی وجہ سے افراتفری کی وہ صورتحال پیدا ہوجائے گی جو اس وقت عراق اور لیبیا میں ہے۔ مزید برآں اس کشمکش میں شیعہ-سنی عنصر کے داخل ہونے سے مسلکی کشمکش ایک بہت بڑے علاقہ میں پھیل جائے گی جو کہ پاکستان سے لبنان تک پھیلا ہوا ہے، اور یہ صورتحال صرف ان غیرملکی طاقتوں کو فائدہ پہونچائے گی جو مسلم ممالک میں افراتفری پھیلا کر ان کا استحصال کرنا چاہتے ہیں۔

ڈاکٹر خان نے مسلمانان ہند کے شیعہ اور سنی لیڈروں کو خبردار کیا کہ وہ چوکس رہیں اور اس فتنہ کو ہمارے ملک میں داخل نہ ہونے دیں کیونکہ وہ ہماری کمیونٹی کو تباہ کر دے گا۔ انھوں نے کہا کہ اس طاعون سے بچنے کے لئے ہم کو پوری طرح خبردار رہنا چاہئے۔

(ختم)

[end]

Read in Arabic here and in English here

ALL INDIA MUSLIM MAJLIS-E-MUSHAWARAT
[Umbrella body of the Indian Muslim organisations]
D-250, Abul Fazal Enclave, Jamia Nagar, New Delhi-110025  India
Tel.: 011-26946780  Fax: 011-26947346

Email: mushawarat@mushawarat.com   Web: www.mushawarat.com

We hope you liked this report/article. The Milli Gazette is a free and independent readers-supported media organisation. To support it, please contribute generously. Click here or email us at sales@milligazette.com

blog comments powered by Disqus