Press Statements

اسرائیلی صدر کے بیان کے بارےمیں مسلم لیڈروں کا بیان

Joint statement of Indian Muslim leaders against the Israeli President’s statement

نئی دہلی، ۱۹جون  ۲۰۱۳ء:  ہم اسرائیلی صدر کے اس بیان کی پوری قوت اور بغیر کسی تحفظ کے مذمت کرتے ہیں جس میں انھوں نے کہا ہے کہ ہندوستانی حکومت کو چاہئے کہ ہندوستانی مسلمانوں کے موقف کو پس پشت ڈالتے ہوئے اسرائیل سے تعلقات مضبوط کرے۔

ہم سب سے پہلے یہ واضح کر دینا چاہتے ہیں کہ یہ بیان ہندوستان جیسے خودمختار اور آزاد ملک کے داخلی امور میں مداخلت ہے۔ مزیدبرآں یہ بیان جمہوری اصولوں کی صریح خلاف ورزی ہے جس کے تحت ملکی اور غیر ملکی پالیسیاں بنانے میں رائے عامّہ کا خیال کیا جاتا ہے۔ ننھے  مگر انتہائی مغرور اسرائیل کو جاننا چاہئے کہ اس طرح کا بیان دے کر وہ جمہوری اصولوں کا مذاق اڑا رہا ہے، بالخصوص اس لئے کہ وہ جس ملک کو نصیحت کر رہا ہے وہ آبادی کے  لحاظ سےاس سے  دو سو گنا بڑا ہے اور جس فرقہ کے جذبات کو نظرانداز کرنے کاوہ  مشورہ دے رہا  ہے وہ اسرائیل کی یہودی آبادی سے تیس گنا  بڑا ہے۔

ہم اسرائیل کو مشورہ دینا چاہتے ہیں کہ وہ اپنے پڑوسیوں سے امن و سلامتی کے تعلقات بنائے، فلسطینیوں کو ان کے اٹوٹ حقوق دے، مقبوضہ علاقوں کو واپس کرے اور غزہ پٹی پر اپنا مجرمانہ حصار اور مغربی کنارے میں غیر قانونی بستیاں ختم کرے۔ اسرائیل کو چاہئے کہ وہ  دن میں خواب دیکھنا بند کر دے کہ اندھی امریکی تایید کے بل بوتے پر وہ شرق اوسط پر  ہمیشہ اپنا تسلط برقرار رکھ سکتا ہے۔ شرق اوسط کی ریت بہت تیزی سے متحرک ہے اور اب خود اسرائیل کے امریکی حلیف کہہ رہے ہیں کہ ایک عشرہ کے بعد اسرائیل کا وجود ختم ہو سکتا ہے۔

ہم اسرائیلی صدر کو مشورہ دینا چاہتے ہیں کہ وہ اسرائیلی نوآبادکاروں کو صلاح  دیں کہ وہ اپنے اصلی وطنوں کو واپس لوٹ جائیں۔ اس کے بعد جو یہودی فلسطین میں  بچ جائیں گے انھیں ایک آزاد اور جمہوری فلسطین میں رہنا ہوگا۔

مزید برآں ہم اسرائیلی صدر کو مشورہ دینا چاہتے ہیں کہ ہندوستان کے بارے میں سوچنا بند کر دیں کیونکہ یہاں ہر فرقہ و مذہب کےلوگ اسرائیل کی حقیقت کو جانتے ہیں اور وہ  اس بات سے اچھی طرح واقف ہیں کہ اسرائیل دھوکہ اور جارحیت سے مسروقہ زمین پر بنایا گیا ہے جو یوروپ اور امریکہ کی اندھی تایید کی وجہ سے ممکن ہو سکا۔ ہندوستان میں ہم اچھی طرح جانتے ہیں کہ اسرائیل آج کی دنیا میں اپارتھائڈ (نسلی تعصب) کے نظریہ پر قائم واحد ملک ہے جو جلد یا بدیر دنیا کے نقشے سے غائب ہو گا، بالکل اسی طرح جس طرح جنوبی افریقہ کی نسلی تعصب پر قائم حکومت غائب ہو چکی ہے۔

 

ڈاکٹر ظفرالاسلام خان، صدر آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت

مجتبیٰ فاروق، صدر ویلفیر پارٹی آف انڈیا

محمد احمد، نیشنل سکریٹری جماعت اسلامی ہند

مولانا عبدالحمید نعمانی، نیشنل سکریٹری جمعیت علمائے ہند

مولانا عبدالوہاب خلجی، صدر اصلاحی موومنٹ آف انڈیا

ڈاکٹر سید قاسم رسول الیاس، ممبر ورکنگ کمیٹی، مسلم پرسنل لا بورڈ

ڈاکٹر تسلیم رحمانی، صدر مسلم پولیٹکل کاؤنسل آف انڈیا

پروفیسر م۔ ھ۔ جواہراللہ، اِیم ایل اے ، صدر منیتھنیا مکال کاتشی (تامل ناڈو)

مولانا عطاء الرحمان قاسمی، صدر شاہ ولی اللہ انسٹی ٹیوٹ

لطیف محمد خان، جنرل سکریٹری سول لبرٹیز کمیٹی (حیدر آباد)۔

For English version of this press statement click here.
 
Issue at New Delhi on 19 June, 2013
 --------------------------------------------------------
Issued by
ALL INDIA MUSLIM MAJLIS-E-MUSHAWARAT
[Umbrella body of the Indian Muslim organisations]
D-250, Abul Fazal Enclave, Jamia Nagar, New Delhi-110025  India
Tel.: 011-26946780  Fax: 011-26947346

Email: mushawarat@mushawarat.com   Web: www.mushawarat.com

We hope you liked this report/article. The Milli Gazette is a free and independent readers-supported media organisation. To support it, please contribute generously. Click here or email us at sales@milligazette.com

blog comments powered by Disqus