Press Statements

Mushawarat condemns SP's report on Muzaffarnagar, warns against coerced repatriation

Mushawarat condemns Samajwadi Party report about madrasas in strife-torn Muzaffarnagar and Shamli and warns against any hasty attempt at forcible repatriation of the refugees

New Delhi, 24 October, 2013: The All India Muslim Majlis-e Mushawarat, umbrella body of Indian Muslim organisations, today condemned the report submitted by the Samajwadi party delegation after visiting Muzaffarnagar and adjoining areas, which claims that madrasas out of their self interest are thwarting attempts to repatriate the refugees to their villages. The Mushawarat also condemned the UP Samajwadi government’s attempts to forcibly repatriate refugees against their wish to their villages where their relatives were killed and burned alive, where their houses were torched and where their women were raped and girls kidnapped.

Dr Zafarul-Islam Khan, President of AIMMM, said in a statement here that while Mushawarat appreciates UP Samajwadi Party’s attitude in taking care of the refugees and paying compensation in record time, it takes very grim view of the UP administration’s attempts to forcibly repatriate the refugees against their will while their killers are roaming free and attacking even mediamen visiting those villages. Dr Khan said while villagers who fled out of fear only have mostly gone back but those who witnessed murder, arson and rape and whose homes and properties were burnt to ashes and where their women were raped and girls kidnapped, are not ready to go back. Dr Khan said, we have ascertained this independently without any intervention or presence of madrasa people while interacting with refugees during two visits to over a dozen of these camps,

Dr Khan said, if UP administration is serious about repatriating the refugees, it should first arrest all those accused by the refugees, get their homes, shops and factories repaired and rebuilt and place a permanent picket of Rapid Deployment Force or Army in each village which witnessed atrocities like the villages of Lisadh, Kutba-Kutbi, Phugana, Lakh and Batawdi, etc.

Dr Khan further said that the madrasas and mosques played an admirable role and sprang to action while the state administration was still sleeping. They provided shelter and food to these victims. We thank the administrators of these madrasas and mosques and reject in its entirety the slur made by the Samajwadi Party team whose aim is only to save the face of the party which has been blackened by its passive participation in the riots.



Urdu text:

مشاورت سماجوادی پارٹی کی رپورٹ اور فساد زدہ مظلومین کی زبردستی واپسی کی کوششوں کی مذمت کرتی ہے

نئی دہلی، ۲۴ اکتوبر ۲۰۱۳: ہندوستانی مسلم تنظیموں کی وفاقی تنظیم آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت نے آج یہاں اس رپورٹ کی مذمت کی ہے جو سماجوادی پارٹی کے کچھ لیڈران نے مظفر نگر اور اس کے نواح کے علاقوں کا دورہ کرنے کے بعد پارٹی کے صدر کو پیش کی ہے اور جس میں یہ دعوی  کیا گیا ہے کہ اپنے مفاد کی وجہ سے مدارس فساد کے مظلومین کی واپسی میں بندش ڈال رہے ہیں۔

مشاورت نے اتر پردیش کی سماجوادی حکومت کی ان کوششوں کی بھی مذمت کی جن کا مقصدفساد کے مظلومین کو زبردستی ان کےگاؤوں  واپس بھیجنا ہے جہاں ان کے رشتہ دار قتل کئے گئے اور  زندہ جلائے گئے، جہاں ان کے گھر توڑے گئے اور جلائے گئے اور جہاں اُن کی عورتوں کی عصمت دری کی گئی اوران کی  لڑکیوں کو اغوا کر لیا گیا۔

مسلم مجلس مشاورت کے صدر ڈاکٹر ظفرالاسلام خان نے آ ٓج یہاں ایک بیان میں کہا کہ اگرچہ مشاورت سماجوادی حکومت کی ان کوششوں کو بنظر استحسان دیکھتی ہے جو اس نے فساد کے بعد مدد مظلومین  کو مدد پہچانے اور ان کو معاوضہ دینے کے سلسلے میں کی ہیں ، لیکن اسی کے ساتھ مشاورت اتر پردیش سرکار کی ان کوششوں کے بالکل خلاف  ہے جوپناہ گزین  مظلوموں کو زبردستی اُن کے گاؤوں واپس بھیجنےکے لئے کی جارہی ہیں حالانکہ ان کے قاتل اب بھی وہاں آزاد گھوم رہے ہیں اوروہ  اپنے گاؤوں میں صحافیوں تک پر حملے کر رہے ہیں۔ ڈاکٹر ظفرالاسلام  نے کہا کہ وہ پناہ گزین جو محض ڈر کی وجہ سے بھاگ آئے تھے، ان کی اکثریت اب اپنے گاؤوں کو واپس جا چکی ہے، لیکن ایسے  پناہ گزین جنہوں نے اپنی آنکھوں سے قتل، آتش زنی اور عصمت دری دیکھی ہے اور جن کے گھر اور املاک  جلائے گئے ہیں اور جن کی عورتوں کی عصمت دری کی گئی ہے وہ قطعاً واپس جانے کے لئے تیار نہیں ہیں۔  ڈاکٹر ظفرالاسلام نے کہا کہ یہ حقیقت ہم نے فساد کے بعد مظفر نگر اور اس کے نواح کے تقریباً ایک درجن پناہ گزین کیمپوں کا دوبار دورہ کرکے خود دیکھا ہے اور پناہ گزینوں سے ہماری بات چیت کے دوران وہاں مدرسوں کا  کوئی آدمی موجود نہیں تھا۔

ڈاکٹر ظفرالاسلام نے کہا کہ اگر اتر پردیش کی سرکار واقعی سنجیدہ ہے تو اسے پناہ گزینوں کی واپسی  کا راستہ ہموار کرنے کےلئے  چاہئے کہ تمام نامزد مجرموں کو گرفتار کرے، پناہ گزینوں کے ٹوٹے اور جلائے ہوئے گھروں، دکانوں اور فیکٹریوں  کو دوبارہ تعمیر کرے اور ہر اس قسم  کے گاؤں،مثلا  لساڑھ، کٹبا۔کٹبی، پھگانا، لاکھ اور بٹاودی ، میں ریپڈ ڈپلائمنٹ فورس یا فوج کی ایک ٹکڑی مستقل طور سے تعینات کرے۔

ڈاکٹر ظفرالاسلام خان نے مزید کہا کہ مدرسوں اور مساجدنے اس سانحہ کے دوران قابل تعریف رول ادا کیا ہے اور ان کے ذمہ داران بلا تاخیر مسئلہ کو حل کرنے کے لئے اٹھ کھڑے ہوئے جبکہ اس وقت تک صوبائی انتظامیہ خواب خرگوش میں مبتلا تھی۔ ڈاکٹر ظفرالاسلام خان نے کہا کہ ہم مدارس اور مساجد کے منتظمیں کا شکریہ ادا کرتے ہیں اور سماجوادی پارٹی کے دفد کی رپورٹ میں مذکور جھوٹ کو پوری طرح خارج کرتے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ سماجوادی پارٹی کا مقصد صرف پارٹی کی شبیہ  کو بہتر بنانا ہے حالانکہ فساد سے پہلے اور فساد کے دوران اس کے سلبی موقف نے اس کا چہرہ کالا کر دیا ہے۔


Issue at New Delhi on 24 October 2013 by
[Umbrella body of the Indian Muslim organisations]
D-250, Abul Fazal Enclave, Jamia Nagar, New Delhi-110025  India
Tel.: 011-26946780  Fax: 011-26947346

Email:   Web:


We hope you liked this report/article. The Milli Gazette is a free and independent readers-supported media organisation. To support it, please contribute generously. Click here or email us at

blog comments powered by Disqus